21 جنوری 2015 - 22:05
عراقی فورسز کا داعش دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ

عراق کے مختلف صوبوں میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف عراقی فوج کی پیش قدمی جاری ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق  صوبہ الانبار کی کونسل کے رکن نے کہا ہے کہ عراقی فوج نے الرمادی کے مشرق میں داعش کے حملے کو پسپا کر دیا ہے اور اس کارروائی میں دسیوں داعشی دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسی طرح صوبہ الانبار کے سکیورٹی ذرائع نے خبر دی ہے کہ اس صوبے کے علاقے حدیثہ پر ہوائی حملے میں داعش کا سرغنہ ابوعثمان الشامی اپنے کئی ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہو گیا ہے۔
موصل میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے پریس انچارج سعید موزینی نے بھی کہا ہے کہ عراقی کرد پیشمرگہ فورس نے وانہ کے علاقے میں داعش کے دہشت گردوں پر حملہ کر کے دسیوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کردملیشیا نے اسی طرح موصل کے مشرق میں چار دیہاتوں کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کردیا ہے۔
دریں اثنا صوبہ دیالہ کی پولیس کے سربراہ جمیل الشمری نے کہا ہے کہ عراقی سیکورٹی فورس نے المقدادیہ کے شمال میں داعش کے دہشت گردوں کو مکمل گھیرے میں لے لیا ہے اور ان کے فرار کے تمام راستے بند کر دیے ہیں تاکہ اس صوبے میں داعش کا کام تمام کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن انجام دیا جائے۔
ادھر موصل کے قبائلی عمائدین کی کونسل کے ترجمان ابراہیم الطانی نے بھی کہا ہے کہ عراقی فوج اور عوامی فورس کی پیش قدمی کے باعث داعش کے دہشت گرد الرسالہ، اغادیر، تل الرمان اور المامون کے علاقوں سے بھاگ رہے ہیں۔
صوبہ نینوا میں بعض ذرائع نے کہا ہے کہ داعش کے سرغنہ ابوبکر بغدادی کی اپنے نائبین سے خط و کتابت پکڑی گئي ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ داعش کو ملنے والی غیرملکی مالی مدد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس خط و کتابت سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ داعش کے سرکردہ دہشت گرد عناصرعراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کا مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگ رہے ہیں۔
دوسری جانب صوبہ بابل میں باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ جرف النصر میں آزاد شدہ علاقوں کا کنٹرول عراقی فوج اور پولیس نے سنبھال لیا اور عوامی رضاکار فورس کے جوان اس علاقے سے نکل گئے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق عراقی فوج اور پولیس جرف النصر میں تعینات ہو گئی ہے اور داعش کے دہشت گردوں کی اس علاقے میں واپسی کو روکنے کے لیے سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔

/169